یہ پانچ طرح کی جوتی جائز نہیں

کون کون سی جوتیاں پہننا جائز نہیں ہے؟سب سے پہلی بات ہر وہ جوتی جس سے مراد شہرت ہو کہ میں ایسی جوتی پہنوں کہ لوگوں میں میری شہرت ہو ایسے جوتے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ سنن ا بن ماجہ کی روایت ہے 3606 رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو شہرت کی چیز پہنتا ہے لباس پہنتا ہے

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا شہرت کے لئے لوگوں کی توجہ مبذول کروانے کے لئے ریاکاری کے لئے جو جوتا پہنتا ہے اس سے انسان کو گریز کرناچاہئے دوسرا وہ جوتا بھی نہیں پہننا چاہئے جو درندوں کی کھال سے بنا ہو مردوں اور عورتوں کو ایسی جوتیاں نہیں پہننی چاہئیں ۔

۔نسائی کی روایت ہے 4255 مقدام بن معدی کریم سیدنا معاویہ ؓ کے پاس آئے اور آکے کہتے ہیں میں آپ کو اللہ ذوالجلال کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے منع فرمایا تھا کہ درندوں کی کھال کو پہنا جائے یا اس پر سواری کی جائے فرمایا جی ہاں ۔اسی طرح تیسری قسم کی جوتی وہ بھی نہیں پہننی چاہئے جس جوتی میں ریشم استعمال ہوا ہو۔

اور یہ مردوں کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم کو پکڑا اپنے دائیں ہاتھ میں اسے لیا اور سونے کو لیا اپنے بائیں میں اس کو رکھا فرمایا یہ ریشم اور یہ سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔

یہ روایت سنن النسائی کی ہے 5145۔ہاں عورتوں کے لئے پہننا جائز ہے ان کے لئے سونا بھی جائز ہے اور ریشم بھی جائز ہے چوتھی قسم کی جوتی استعمال نہیں کرنی چاہئے مرد زنانہ جوتی استعمال نہ کرے اور عورتیں مردانہ جوتی استعمال نہ کریں ۔ان کا استعمال کبیرہ گناہ ہے اس سے بھی بچنا چاہئے ابن حبان کی روایت ہے ۔

ایسے مرد پر اللہ کے رسول کی لعنت ہے جو عورتوں کے لباس پہنتا ہے یا عورتوں کی طرح ہی وہ کوئی چیز پہنتا ہے اور ایسی عورتوں پر بھی لعنت ہے رسول اللہ ﷺ کی جو مردانہ لباس پہنتی ہیں یا کوئی مردانہ چیزوں کو پہنتی ہیں۔

پانچویں قسم کی جوتی وہ بھی پہننا جائز نہیں ہے ایسی جوتی جس میں تکلیف ہے ۔بڑی ایڑی ہے۔بڑی ایڑی والی جوتی کو پہننا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے عورت گر بھی سکتی ہےاور انسان کو اس بات کا حکم ہے کہ اپنی جان کی بھی حفاظت کرے اپنے آپ کو نقصان سے بچائے بلکہ سیدنا ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جس کا قد بہت چھوٹا تھا دولمبی عورتوں کے درمیان وہ چلتی تو لو گ اس کو پہنچانتے نہیں تھے

اس نے لکڑی کی دو جوتیاں بنائیں تا کہ ان کے برابر ہوجائے تو پھر وہ دو عورتوں کے درمیان چلتی اور اس نے ایک انگوٹھی لی سونے کی اور اس میں خوشبو دالی جب وہ کسی مجلس سے گزرتی تو اس انگوٹھی کو بھی حرکت دیتی اور جب وہ کسی مجلس کے لوگوں کے پاس سے گزرتی تو۔

اس خوشبو کو وہاں سے ان تک پہنچانے کی کوشش کرتی امام البانی ؒ اس حدیث کے بارے میں ایک بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ فاسقات کی نشانی ہے یہ فاجرات کی نشانی ہے جو یہ انداز اختیار کرتی ہیں اور آثار یہ بتاتے ہیں بنی اسرائیل کی عورت جو اپنے قد کو بڑا کرنے کے لئے اور بازاری عورتوں کے ساتھ چلنے کے لئے بڑی جوتی بنوائی

بنی اسرائیل نے اس کانام فتنہ رکھ دیاتھا ڈرجانا چاہئے ان مردوں کو اپنے نیک عورتوں کو فتنہ نہ بنائیں اور شرعی رہنمائی سے انہیں دور نہ کریں بلکہ شرعی رہنمائی کی روشنی میں انہیں لباس بلکہ ہر چیز مہیا کرنی چاہئے ۔

Leave a Comment