کیاش۔رمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا-ہے

ش۔رمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے‘ دونوں کی احادیث وارد ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا:یں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مروان نے کہا: اور عضو کو چھونے کا کیا حکم ہے؟اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں۔

مروان کہنے لگا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’جو اپنا عضو چھوئے وہ وضو کرے‘۔جبکہ قیس بن طلق رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے ستر کو ہاتھ لگانے پر وضو کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اسی طرح عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے مروی ہےکہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے شرم۔گاہ کے نماز کے اندر چھولینے کے بارے میں پوچھے گئے۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:تم میں کسی کا ہاتھ اس کی شرم۔گاہ کو لگے اور ہاتھ اور شرم۔گاہ کے درمیان میں کوئی ستر و حجاب نہ ہو یعنی ہاتھ براہ راست شرم۔گاہ کو مس کرے تو اسے چاہیئے کہ وضو کرے۔

ذخیرہ احادیث میں شرم۔گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے دونوں طرح کی احادیث موجود ہونے کے سبب اس مسئلہ میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہما شرم۔گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل ہیں۔امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شرم۔گاہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا،

جبکہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب قول کے مطابق شرم۔گاہ کا چھونا اگر لذت کے ساتھ ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر لذت کے بغیر ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔ کچھ علماء شرم۔گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل تو نہیں تاہم وہ دوبارہ وضو کرنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔بہرحال آئمہ احناف کے نزدیک محض شرم۔گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جن احادیث میں شرم۔گاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد وضو کرنے کا ذکر ہے اس سے وہ لغوی وضو یعنی ہاتھ دھونا مراد لیتے ہیں۔ فتاوی شامی میں ہے:

Leave a Comment