ایامِ بیض کا خصوصی عمل ! ہرمسئلے کا حل

ایام بیض،روشن دن کو کہتے ہیں۔ قمری مہینے کی تیرہویں،چودہویں اور پندررہویں تاریخ،ان دنوں کی راتوں میں چاند کی خوب روشنی ہوتی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایام بیض کے روزے کبھی ترک نہ فرماتے تھے۔ خواہ گھر میں ہوں یا سفر میں۔یہاں مرقات نے فرمایا ایام بیض کے متعلق علما کے نو قول ہیں جن میں سے زیادہ قوی قول یہ ہے کہ وہ چاند کی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں راتیں ہیں،

انہیں ایام بیض یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں اجیالی ہیں اور یا اس لیے کہ ان کے روزے دنوں کو نورانی اور اجیالا کرتے ہیں اور یا اس لیے کہ آدم علیہ السلام کے اعضاء جنت سے آکر سیاہ پڑ گئے تھے۔

رب تعالٰی نے انہیں ان تین روزوں کا حکم دیا ہر روزے سے آپ کا تہائی جسم چمکیلا ہواحتی کہ تین روزوں کے بعد سارا جسم نہایت حسین ہو گیا۔ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خلیل دوست نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا، ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا، چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔

جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر ماہ میں تین روز روزے رکھ لینا ہمیشہ روزہ کے رکھنے کے برابر ہے اور ایام بیض یعنی 13ویں رات کی فجر سے 14ویں 15 ویں تک ہیں۔حضرت قتادہ بن ملحان قیسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو ایام بیض یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے۔

کہ ان کا ثواب اتنا ہی ہے جتنا ہمیشہ روزہ رکھنے کا ۔عبدالملک بن منہال رضی اللہ عنہ اپنے والد ماجد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ہی ایام بیض کے تین روزے رکھنے کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا یہ پورے ماہ کے روزے ہیں۔ایام بیض سے مراد چاندنی راتوں کے دن ہیں یعنی قمری مہینوں کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ

لہٰذا ایام بیض میں بیض سفید روشن، لیالی یعنی ان راتوں کی صفت ہے جن کے دنوں کو ایام بیض کہا جاتا ہے ان راتوں کو بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان راتوں میں چاندی اول سے آخر تک رہتی ہے گویا پوری رات روشن و چمکدار رہتی ہے یا پھر کہا جائے گا کہ بیض ایام ہی یعنی دنوں کی صفت ہے اور ان دنوں کو بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان ایام کے روزے گناہوں کی تاریکی کو دور کرتے ہیں۔

اور قلوب کو روشن و مجلیٰ کرتے ہیں یا یہ دن ایام بیض اس لیے کہلاتے ہیں کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر اتارا گیا تو ان کا تمام بدن سیاہ ہو گیا تھا جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہیں حکم دیا گیا کہ ان دنوں میں تین روزے رکھو چنانچہ انہوں نے تیرہویں کو روزہ رکھا تو ان کا تہائی بدن سفید اور روشن ہو گیا، چودہویں کو روزہ رکھا تو دو تہائی بدن سفید و روشن ہو گیا اور جب پندرہویں کو روزہ رکھا تو تمام بدن سفید روشن ہو گیا۔

رزق کی بندش کا مسئلہ ہو شادی کا مسئلہ ہو روزگار کا مسئلہ ہو اولاد کا مسئلہ ہو غرض کوئی بھی مسئلہ ہو ایام بیض کا خصوصی عمل کریں۔

آپ کا ہر مسئلہ لازمی حل ہوگا۔ وظیفہ یہ ہے کہ ہر چاند کی 13،14،15 کو روزہ رکھیں اور چاند کی 13 کی شام کو ،14 کی شام کو ،15 کی شام کو افطار کے بد سے لے کر ساری رات سورہ فاتحہ پڑھیں۔بسم اللہ کے ساتھ۔ہر دفعہ اپنی مشکل کا احساس کرتے ہوئے چاہے رزق کی بندش ہو ،شادی کا مسئلہ ہو ،روزگار کا مسئلہ ہو ،گرض کوئی بھی مسئلہ ہو اللہ سے مانگیں۔مرد کھلے آسمان کے نیچے جیسے چھت پر یا صحن میں پڑھیں

اگر میسر نہ ہوتو کوئی بات نہیں کمرے میں ہی پڑھ لیں۔اللہ غیب سے رزق روحانی اور جسمانی عطافرمائیں گے۔اللہ پاک کی غیبی مدد آپ کے ساتھ ہوگی اور آپ جس مقصد کے لئے یہ عمل کریں وہ مسئلہ آپ کا حل ہوجائے گا۔پہلی دفعہ یہ عمل آخرت کے لئے تیار کریں۔

Leave a Comment