جو عورتیں ہاتھوں پر مہندی نہیں لگاتیں وہ نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ضرور سن لیں

مہندی ہمارے سفید بالوں کو چھپانے بالوں کو مضبو ط چمکدار اور گھنا بنانے کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں سے نجا ت کا ذریعہ بھی ہے ۔ آجکل شادی بیاہ اور تہواروں پر لڑکیاں اور خواتین ہار سنگھار کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں اس آرائش حسن کے لوازمات میں مہندی کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ سرخ اور سیاہی مائل نقش ونگار سے ہاتھوں کو انتہائی خوبصورتی سے مزین کیا جاتا ہے ۔

مہندی عورت کے حسن کو چار چاند لگا دیتی ہے ۔ مہندی محض ہاتھوں پر بیل بوٹے بنانے کے کام نہیں آتی یہ ایسا قدرتی پودا ہے جس کے پتوں پھولوں اوربیجوں میں کئی کمالات پائے جاتے ہیں۔مہندی پاک وہند کی خوبصورت روایا کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریمﷺ کی سنت بھی ہے ۔ نبی کریمﷺ نے مہندی کے استعمال کا کیا طریقہ بتایا سائنس نے اس پر ریسرچ کرکے مہندی کے کونسے کونسے فوائد ڈھونڈ نکالے ۔ ایک صاحب کہتے کہ بچی کے سر میں پھنسیوں کی پیدائش شروع ہوگئی ۔

وہ ہروقت سر کو کھجاتی بال منڈوا دیے مگر خارش ختم نہ ہوئی ۔ حکیمی معالج کو دکھایا انہو ں نے روغن حناء کی بوتل اور تھوڑا سا تیل بچی کے زخموں پر لگانے کیلئے دیا ۔ چند روز میں بچی کو سر کی پھنسیوں سے نجات مل گئی ۔ اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو تو مہندی کا استعمال کریں۔ ابن ماجہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب سردرد ہوتا تو نبیﷺ اپنے سر پر مہندی کا لیپ کرتے اور فرماتے ہیں ۔گرمی کے سردرد کیلئے خدا کے حکم سے نافع ہے ۔

حضرت سلمیٰ ؓ جو تاجدار مدینہ ﷺ کی خادمہ ہیں وہ فرماتی ہیں رسول اکرمﷺ کے پاس جو کوئی بھی دردِ سر کی بیماری کی شکایت کرتا نبی کریمﷺ اسے فرماتے کہ حجامہ لگوا لو اور پاؤں میں جو درد کی شکایت کرتا آپﷺ اسے فرماتے کہ مہندی لگا لو۔انہی حدیث مبارکہ کے ساتھ بھی ایک واقعہ سناتے ہیں ایک صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے ایک عزیز ہیں۔

جیسے ہی گرمی آتی وہ موسم کی شدت سے پریشان ہوجاتے ہاتھ پاؤں سرخ ہوجاتے جوتی پہن کر چند قدم چلتے تو تلوں میں جلن محسوس کرتے ۔طبیعت میں چڑ چڑاپن بڑھ جاتا ۔ایک دن ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں نے دیکھا ان کی ایڑھیوں میں گہرے زخم پڑے ہیں تلوے اتنے خشک کہ دور سے دیکھ کر عجیب لگتا ہے ۔انہوں آتے ہی پاؤں کو ٹھنڈے پانی سے دھو کر پنکھے کے قریب بیٹھ گئے ۔

ہماری ملازمہ اس وقت مہندی گھو رہی تھی میں نے کہا ان کا علاج مہندی سے کیجئے ۔ پاؤں کے دونوں تلوں پر مہندی کا گاڑھا لیپ کیا ۔دس منٹ گزرنے نہ پائے تھے کہ چہرہ پر رونک نظر آنے لگی ۔ کہنے لگے مہندی لگا کر ایسا محسوس ہو ا کہ جیسے قدرت نے دوبارہ جسم عطاء کردیا ہو۔ نبی کریمﷺ کی کوئی بھی بتائی ہوئی چیز ایسے ہی اثر انداز ہوتی ہے ۔

جدید سائنس کہتی ہے کہ مہندی کے پتوں میں ایک خاص جز بھی پایا جاتا ہے جو بیکٹیریا کو روکتا ہے ۔ حضرت اُم عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ خاتون نے پردے کی اوٹ سے اپنا ہاتھ رسول کریمﷺ کی جانب پھیلایا ایک خط یا کاغذدینے کیلئے آپﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ کھینچ لیا ۔اس خاتون نے عرض کیا میں نے آپﷺ کو کاغذ دیا تھا۔

اورآپﷺ نے نہ لیا آپﷺ نے فرمایا مجھ کو علم نہیں کہ ہاتھ عورت کا ہے یا مرد کا اس عورت نے کہا میں عورت ہوں آپﷺ نے فرمایا عورت ہوتو اپنا ہاتھ مہندی سے رنگ لیتی یعنی ہاتھوں کو مہندی لگاتی ۔ عورت کیلئے ہاتھوں کو مہندی یا کسی بھی ذیب تن سے خالی رکھنا مقروح ہے ۔ اسی لیے عورتوں کیلئے مہندی یا کوئی بھی ذیبائش کی چیز ہاتھوں میں ضرور ہونی چاہیے ۔

سائنس کہتی اگر خواتین مہندی رچے ہاتھوں سے کھانا کھائیں تو کھانے کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔ نبی کریمﷺ کی ہر سنت ہی نرالی ہے اللہ تعالیٰ تمام بہنوں کو اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

Leave a Comment