لمبا سجدہ اور اس کے اثرات سجدے سے مختلف بیماریوں کا علاج کیسے

جب انسان چالیس کراس کر لیتا ہے تو ڈاکٹرز کہتے کہ اپنے ٹیسٹ ہر چھ مہینے کے بعد کروائیں۔ جو پچا س کروس کرلیتا ہے ۔ تو خاص طور پر غریب ملکوں میں رہنے والے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ان بیماریوں میں دل کے مرض ،آنکھ کے امراض ، مختلف کی الرجی ،سائیناز، الزائمر ،اور ڈیمنشیا وغیرہ ۔ بڑھاپے میں ہر تین میں سے ایک بندے کو الزائمر یا ڈیمنشیا وغیرہ ہونا ہی ہوتا ہے ۔ دماغی کمزوری کو دور کرنے کا واحد طریقہ لمبا سجدہ کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دل کشش شکل کے خلاف خون کو دماغ تک پمپ اتنے ٹھیک طریقے سے نہیں کرتا ہے کہ جتنا ہم سجدے میں چلے جاتے ہیں تب کرتا ہے ۔پھر مزید ریسرچ کی تو معلوم ہوا کہ رائیناٹیز والی الرجی کا بھی یہی حل ہے ۔

جن لوگوں نے آزمایا ان کے مطابق کافی پرانی الرجی کا مسئلہ اور دوسرے مزید کئی مسائل حل ہوئے چہرہ خون کی سپلائی کی وجہ سے تازہ رہنے لگا اور بڑی عمر کے اثرات تقریباً ختم ہوگئے ۔ بلغم کا مسئلہ بلکل ختم ہوگیا۔ کانوں کے مسائل اور آنکھوں کی کمزوری کے مسائل کم ہوئے اور ساتھ ساتھ ہی آنکھوں کے نیچے کالے رنگ کے حلقے ختم ہوگئے ۔

میری گزارش ہے کہ ایک مہینے لمبا سجدہ کرکے دیکھیں انشاء اللہ آپ کو اپنی سوچ سے زیادہ اچھے نتائج ملیں گے ۔ مسلمان تو ویسے بھی نماز پڑھتا ہے ۔ اگر ہم نماز کے بعد سجدہ شکر بھی کرنا شروع کردیں۔ہمارے اور بڑے بڑے مسائل ختم ہونا شروع ہوجائیں گے ۔ لمبا سجدہ کرنے سےاللہ تعالیٰ تو راضی ہوگا ہی آپ کی دوسری پریشانیاں بھی حل ہوجائیں گی ۔

یقین مانئیے آپ ہر نماز کےبعد لمبے لمبے سجدہ کرنا شروع کردیں پھیپھڑے زیادہ مضبوط ہوجائیں گے ۔ آپ یہ سب جان لیجئے اور اپنے بزرگوں کو بھی بتائیں۔ حضرت علی ؑ نے فرمایا سجدے نے کن کن نعتوں سے انسان کو گھیر ا ہوا ہے تو وہ سجدے سے سر اُٹھانا ہی نہ چاہے۔شکریہ