ہاتھوں کے خطرناک اشارے سمجھیے اور زندگی کی فکر کیجیے

بہترین معالج چند علامات سے ہی اصل بیماری کا اندازہ لگا لیتا ہے اور پھر اس اندازے کی بنیاد پر علاج کی شروعات یا پھر پہلے ٹیسٹ کروا کر بیماری کی تصدیق کرتا ہے- ہمارے جسم کے مختلف حصوں سے ظاہر ہونے والی علامات کئی بیماریوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں-

تاہم ہم یہاں ان بیماریوں کا ذکر کریں گےجن کی جانب آپ کے ہاتھ اشارہ کرتے ہیں- اگر آپ کے ہاتھوں سے بھی مندرجہ ذیل علامات میں سے کوئی علامت واضح ہورہی ہے تو آپ کو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت علاجشروع کیا جاسکے-

عام طور پر ہاتھوں کا کانپنا اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ آپ کو ایسی اشیاﺀ کا استعمال کم کرنا چاہیے جن میں کیفین پائی جاتی ہو جیسے کہ کافی- اس کے علاوہ سانس کی دوا کے مضر اثرات کی صورت میں بھی بعض اوقات ہاتھ کانپنے لگتے ہیں-

لیکن اگر ایک ہاتھ کانپتا ہے تو یہ پارکنسن کی بیماری لاحق ہونے کا سب سے پہلا اشارہ ہے- آپ کو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور اسے اس کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے- بھارتی محققین نے 100 سے زائد گردوں کے مریضوں پر ایک تحقیق کی- محققین نے 36 فیصد مریضوں کے ناخنوں کو دو رنگوں میں تقسیم پایا-

ان مریضوں کے ناخنوں کی سطح کا رنگ سفید تھا جبکہ اوپر والا حصہ بھورے رنگ کا حامل تھا- محققین کے مطابق ممکنہ طور پر ناخنوں کی یہ حالت خون کی کمی اور گردوں کی بیماری کے باعث تھی

– Grip strength reveals: Heart health Lancet کی تحقیق کے مطابق ہاتھوں کی کمزور گرفت ہارٹ اٹیک اور فالج کا شکار بننے کے بہت زیادہ خطرات کی جانب اشارہ کرتی ہے اور اس سے بچنا بھی مشکل ہوتا ہے- یہ تحقیق 17 ممالک کے تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار بالغ افراد پر کی گئی تھی- محققین کے مطابق ہاتھوں کی گرفت کی طاقت تمام پٹھوں کی طاقت اور صحت کے بارے میں نشاندہی کرتی ہے

– Sweaty palms reveal: Hyperhidrosis ہاتھوں میں چپچپا پن اور بہت زیادہ پسینہ آنا تھائیرائیڈ کی خرابی کی جانب بھی اشارہ ہوسکتا ہے- اس میں پسینہ پیدا کرنے والے غدود غیر ضروری طور پر اضافی فعال ہوجاتے ہیں- زیادہ تر افراد کو جسم کے ایک یا دو حصوں میں پسینے آتے ہیں جیسے کہ ہاتھوں٬ بغلوں یا پھر پاؤں پر-

اپنے ڈاکٹر سے رجوع کیجیے تاکہ اضافی پسینے کی پیداوار کو روکا بھی جاسکے اور اس کی اصل وجہ بھی معلوم کی جاسکے-