اللہ والوں کا کام

اللہ والوں کا کامایک مرتبہ بابافریدؒ کا ایک مرید آپؒ کے پاس آیا‘ وہ لوہار کا کام کیا کرتا تھا‘ آپؒ کےلئے خاص قینچی بنا کر لایا‘ خدمت مبارکہ میں حاضر ہوتے ہی عرض کرنے لگا‘ باباجی یہ میں اپنے رزق حلال میں سے آپ کےلئے ایک تحفہ لایا ہوں۔

باباجی نے جب قینچی ایک مرتبہ بابافریدؒ کا ایک مرید آپؒ کے پاس آیا‘ وہ لوہار کا کام کیا کرتا تھا‘ آپؒ کےلئے خاص قینچی بنا کر لایا‘ خدمت مبارکہ میں حاضر ہوتے ہی عرض کرنے لگا‘باباجی یہ میں اپنے رزق حلال میں سے آپ کےلئے ایک تحفہ لایا ہوں۔

باباجی نے جب قینچی دیکھی تو مسکرا دیئے اور فرمایا بیٹا درویش تحفہ رد نہیں کیا کرتے البتہ جب اگلی مرتبہ آنا ہو تو سوئی لے کر آنا‘ جب وہ مرید اگلی مرتبہ حاضر ہوا تو سوئی لے کر آیا‘

آپ کی خدمت میں پیش کیتو آپ نے فرمایا اس مرتبہ ہممرتبہ ہم نے تمہارا تحفہ خوشی سے قبول کیا اور پسندبھی کیا کیونکہ قینچی کا کام کاٹنا اور سوئی کا کام سینا ہوتا ہے‘

درویش کاٹنے کا نہیں سینے کا کام کرتے ہیں‘ درویشوں کا کام محبت و الفت کے رشتوں کی بنیاد رکھنا ہوتا ہے