آخری زمانے کی نشانیاں

آخری زمانے کی نشانیاں امام علی کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا :یا علی آخری زمانے کے لوگ کیسے ہوں گے ؟ تو امام علی نے فرمایا: اے شخص یاد رکھنا آخری زمانے کے لوگ بھیڑیے ہوں گے اور حکمران درندے ہوں گے درمیانہ طبقہ کھا پی کے مست رہنے والا ہوگا اور فقیر و نادار بالکل مردہ پائے جائیں گے سچائی دب جائے گی،جھوٹ ابھر آئے گا ۔

محبت صرف لفظوں و زبان تک محدود ہوگی اور لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے رنجیشیں ہوں گی منہ پر ایک دوسرے کی تعریف کریں گے اور دل میں ایک دوسرے کے لیے نفرت رکھیں گے پاک دامنی نرالی سمجھی جائے گی شریف لوگوں کو بے وقوف سمجھا جائے گا کم ظرف اور دھوکے باز کو عقل مند سمجھا جائے گا

۔یاد رکھنا وہ زمانہ ایسا ہو گا جہاں اللہ کے رسول کی ممبر پر لوگ کرتب دکھائیں گے اور درس سننے والے درس میں اونچا اونچا ہسنیں گے ۔وہ زمانہ ایسا ہوگا کہ لوگوں کے ضمیر مردہ ہوں گے ۔

انسانوں کے نزدیک سوائے دولت اور خواہشات کے کچھ واضح نہ ہو گا ۔ اس دور کے انسانوں کے کردار کی خوب صورتی سوائے ایک مذاق کے کچھ نہیں سمجھی جائے گی۔ یوں انسان اپنی روح کو اپنے ہاتھوں سے کمزور کرنے لگیں گے ۔

تو وہ کہنے لگا: یا علی جب وہ زمانہ آ جائے تو مومن کیا کرے؟

امام علی نے فرمایا: اس وقت مومن کو چاہیئے کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے حساب کتاب کرے کہ پورے دن میں کتنی نیکیاں کیں اور کتنے گناہ۔ اس وقت مومن کی علامت صرف یہی ٹھہرائی جائے گی کہ اس کی تنہائی پاک ہو۔ اور یاد رکھنا اس وقت جنت میں جانے والا انسان وہی ہوگا جوخواہشات سےنکل کے اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جائے گا ۔

غیر پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے وجود سے سوال کرے کہ کیا وہ عیب جو وہ دوسروں میں تلاش کررہا ہے اس کے اپنے اندر تو نہیں ۔جو انسان اس سوچ کو قائم کرے گا تو اللہ اپنی رحمت کے خزانے اس انسان کے لیے کھول دے گا ۔