عورت کا سر پر بالوں کا جوڑا باندھنا

سوال: عورت کا عمامہ کی طرح سر کے بالوں کو لپیٹنا اور ان کو ايک جگہ جمع کرنے کا کیا حکم ہے براہ کرم واضح فرمائیں.

…………….#✍الجواب ومنہ الصدق الصوابحامداً ومصلیا امابعد —عورتوں کا سر کے بالوں کا جوڑا اس طرحباندھنا کہ سارے بال جمع کرکے سر کے اوپر جوڑا باندھیں یہ شکل جوڑا باندھنے کیناجائز ہے، خواہ نماز کے باہر ہو یا نماز کے اندر اس شکل پر حدیث میں وعید آئی ہے۔(احسن الفتاوی: ۸/۸۴)

اورجوڑے کی ایسی شکل کہ گدی پر جوڑا باندھا جائے یہ جائز ہے بلکہ حالت نماز میں افضلہے، اس لیے کہ اس سے بالوں کے پردہ میں سہولت ہوتی ہے کیونکہ نماز میں لٹکے ہوئےبالوں کا چھپا ہونا ضروری ہے،

#واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم

#✍نقلہ: احمد بن محمد ارشد خان

#رکن : المسائل الشرعیہ الحنفیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب وباللہ التوفیق:پہلے مسئلہ کی کراہت تو صحیح احادیث سے ثابت ہے:بَاب النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلَاتِ الْمُمِيلَاتِ2128 حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَاصحيح مسلممیری امت میں دو قسم کے لوگ جنت میں نہ جائیں گے۔

پہلی قسم ظالم پولیس والے ہیں جو لوگوں پہ لمبے لمبے کوڑے برساتے ہیں (دوسری قسم ) ایسی عورتیں ہونگی جو ( لباس پہننے کے باوجود ) ننگی ہونگی ، دوسروں کو (اپنی طرف) مائل کریں گی، دوسروں کی طرف (خود) مائل ہونگی،

ان کے سر، جھکے ہوئے بختی اونٹوں کی کوہان کی مانند ہونگے (یعنی کوہان کی مانند، سر کے اوپر بالوں کو جمع کرینگی)، ( یہ دونوں قسمیں) نہ جنت میں داخل ہونگی اور نہ اس کی خوشبو پاسکیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو تو اتنے اتنے فاصلے (یعنی پانچ سو سال کی مسافت ) سے آرہی ہوگی۔

لیکن دوسرا جزئیہ جس میں گدی پہ جوڑے باندھنے کو نہ صرف جائز بلکہ بہتر قرار دیا گیا ہے ۔وہ ناقابل اتفاق ہے۔

صحاح وسنن کی روایات سے اس کی کراہت کا بھی علم ہوتا ہے ۔ص: 354] بَاب أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ وَعَقْصِ الرَّأْسِ فِي الصَّلَاةِ
490 وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ الْكَفَّيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ وَالْجَبْهَةِصحيح مسلم273

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌسنن الترمذيفتاوی ہندیہ 106/1 قدیم، فتاوی قاضی خاں علی ہامش الہندیہ 117/1 ۔ میں اسے بھی مکروہ قرار دیا گیا ہے۔

سجدہ قرب خداوندی کی سب سے افضل جگہ ہے۔ اس میں سر کے بال بھی پردہ کے ساتھ عجز وانکساری کے ساتھ سجدے میں پرنے چاہئیں ۔اس کو موڑنے کو بہتر کہنا محتاج دلیل ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحبان نے بھی کتاب الفتاوی 291/2۔اصلاحی خطبات 217 /14 میں اس شکل کو مکروہ قرار دیا ہے ۔

“اصلی زینت ” صفحہ 10 پہ جو کچھ تحریر کیا گیا ہے وہ بلا حوالہ ودلیل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

شکیل منصور القاسمی