والدین اور بیوی میں زیادہ حق کس کا ہے؟

والدین کا حق زیادہ ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے جنا ہے ۔ ان کے احسانات بے پناہ ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے اور توجہ بھی والدین کی طرف زیادہ دینی چاہیئے ۔والدین کو بیوی پر ترجیح دینی ہے لیکن اس میں اصول یہ ہے کہ شریعت نے جو والدین کا حق ہے

اس کی ادائیگی کا طریقہ مختلف رکھا ہے اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا انداز مختلف ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں ۔اس کی مثال ایسے ہے کہ کوئی پوچھے کہ بیٹی کا حق زیادہ ہے یا بیٹے کا تو حق تو دونوں کا برابر ہے ۔لیکن دونوں کے حق کی ادائیگی کا طریقہ مختلف ہے

بیٹے کو آپ کمانے کے قابل بناتے ہو ،بیٹی کے لیے اچھا رشتہ تلاش کرتے ہو ۔تو والدین کا حق ایسے ادا ہو گا کہ ان کو تکلیف سے بچایا جائے گا ۔لیکن وقت زیادہ بیوی کو دیا جاتا ہے اس لیے کہ والدین کو آپ کے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں ہوتی

کیونکہ اللہ پاک نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کی دلجوئی کے لیے پیدا کیا ہے تو وہ ایک دوسرے سے زیادہ وقت مانگتے ہیں ۔ تو آپ 24 گھنٹے میں تھوڑا سا وقت والدین کو دیں گے تو وہ خوش ہو جائیں گے ۔

قرآن میں اللہ نے بیوی کو صاحبہ کہا ہے مطلب ساتھ رہنے والی۔ تو اسے وقت زیادہ دیا جاتا ہے ۔اس میں والدین کی حق تلفی نہیں ہے ۔لیکن اگر بالکل وقت نہیں دے رہے تو یہ غلط بات ہے یہ ظلم ہے ۔

آپ کے ذمے یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی ماں پہ خرچ کریں یہ آپ کے والد کے ذمے ہے لیکن بیوی کا خرچہ مرد کے کندھے پر ہے ۔تو اگر انسان ماں باپ کو نا دے رہا ہو اور بیوی بچوں پرخرچ کررہا ہوتو یہ گناہ نہیں ہے ۔گناہ تب ہے جب ماں باپ کے کمانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو

ایسی صورت میں بیوی بچوں کو کھلانا لیکن ماں باپ کو نا دینا سخت گناہ ہے ۔یہاں دونوں کو کھلانا آپ کافرض ہے ۔والدین کے واجب حقوق کی حق تلفی کرنے پر گناہ بہت زیادہ ہے بیوی کے حقوق کی حق تلفی پر گناہ ہو گا لیکن والدین کی نسبت کم ہو گا ۔

اس لحاظ سے والدین کا حق زیادہ ہے ۔ مبحا کاموں میں والدین کا حق زیادہ ہے اگر آپ کی بیوی اور ماں دونوں آپ سے کہتی ہیں کہ مجھے حج کراو تو ماں کا حق زیادہ ہے